سورة الهمزة - آیت 5

وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی۔ (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) جہنم کی خطرناکی اور اس کی ہولناکی بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا : آپ کو کیا معلوم کہ وہ ” حطمہ“ یعنی جہنم کیا چیز ہوگی؟ پھر کہا کہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ ہوگی جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے، اور جو اپنی شدت اور تیزمی کے سبب جسموں کے راستے دلوں تک پہنچ جائیگی، یعنی اس کی تکلیف اور سختی دلوں کو ہمہ دم بے چین اور مضطرب رکھے گی۔