سورة القدر - آیت 5

سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یہ رات سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر طلوع ہونے تک رہتی ہے (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) لیلتہ القدر سراسر سلامتی اور خیر ہی خیر ہوتی ہے، اس میں کوئی شر نہیں ہوتا اور یہ خیر و سلامتی غروب آفتاب سے طلوع فجر تک باقی رہتی ہے بعض لوگوں نے سلامتی والی رات کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ مومنین اس رات کو شیاطین کے شر سے محفوظ رہتے ہیں، یا یہ کہ فرشتے مومنوں اور مومنات کو سلام کرتے ہیں۔ لیلتہ القدر کی تعیین کے بارے میں علماء کے چالیس سے زیادہ اقوال ہیں سب سے قوی روایت یہ ہے کہ یہ رات ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں آتی ہے، بخاری و مسلم اور احمد و ترمذی نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” لیلتہ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں تلاش کرو“ اسی لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دس راتوں میں عبادت کا بڑا اہتمام کرتے تھے، اعتکاف کرتے تھے اور عبادت کے لئے خود بھی جگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ دیگر صحیح احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے، ابی بن کعب سے زربن حبیش نے شب قدر سے متعلق پوچھا تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ وہ 27 ویں رات ہے مصنف ابن ابی شیبہ میں ابو ذر (رض) کی روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عمر، حذیفہ اور دیگر بہت سے صحابہ کو اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ وہ رمضان کی 27 ویں رات ہے۔ مذکورہ بالا احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے، نیز معاویہ، ابن عمر اور ابن عباس وغیرہ ہم سے اس بارے میں جو روایات آئی ہیں ان کے پیش نظر علمائے سلف کی ایک بڑی تعداد نے 27 ویں رات کو ہی لیلتہ القدر سمجھا ہے، واللہ اعلم بالصواب بہر حال لیلتہ القدر سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے اتنی بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان کی زندگی میں اس رات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لئے اسے پان کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع میں رمضان کی آخری دس راتوں میں عبادت کا خوب اہتمام کرنا چاہئے اور اپنے بال بچوں کو بھی ان راتوں میں عبادت کے لئے جگانا چاہئے۔ وباللہ التوفیق