سورة العلق - آیت 6

كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) آیت (٦) سے آخر سورت تک ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی تھی، احمد مسلم، نسائی، ابن جریر اور بیہقی وغیرہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، ابوجہل نے پوچھا، کیا محمد تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتا ہے؟ لوگوں نے کہا : ہاں، اس نے کہا : لات و عزی کی قسم ! اگر میں نے اسے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن کو پاؤں سے کچل دوں گا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑدوں گا چنانچہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آیا جب آپ نماز پڑھ رہے تھے، تاکہ آپ کی گردن کو کچل دے، لیکن جب وہ آپ کے قریب ہوا تو فوراً پیچھے ہٹنے لگا اور ہاتھ کے ذریعہ اپنے آپ کو بچانے لگا لوگوں نے پوچھا کیا : کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ میرے اور اس کے درمیان آگ سے بھرا خندق اور کوئی نہایت ڈراؤنی چیز ہے جس کے پر ہیں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا تو فرشتے اسے چیر پھاڑ کر اس کا ایک ایک عضو اچک لے جاتے۔ اسی حادثہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے (کلا ان الانسان لیطفی) سے آخر سورت تک نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو انسان ایمان اور معرفت الٰہی کی دولت سے محروم ہوتا ہے، جب اللہ تعالیٰ اسے مال و دولت اور حکومت و سلطنت سے نوازتا ہے، تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اب وہ کسی کا محتاج نہیں اور رب العالمین کو یکسر بھول جاتا ہے، طغیان و سرکشی پر آمادہ ہوجاتا ہے، کبر و ظلم اس کی صفت بن جاتی ہے، کمزوروں کو حقیر سمجھنا اور دوسروں کا مذاق اڑانا اس کا شیوہ بن جاتا ہے۔ آیت (٨) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ابوجہل ہو یا اور کوئی ظالم و سرکش، بہرحال اسے لوٹ کر آپ کے رب کے پاس ہی آنا ہے، اور ہم اس سے ضرور انتقام لیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ابو جہل کی بدسلوکی پر شدید اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا کہ کتنا برا اور لائق نفرت ہے وہ انسان جو اللہ کے بندے (محمد) کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے کیا اللہ کے لئے نماز پڑھنا کوئی جرم ہے، نماز پڑھنے سے اس مجرم کو کیا تکلیف پہنچتی ہے کہ وہ آپ کو روکتا ہے۔ وہ نبی جو راہ ہدایت پر قائم ہے اور دورسوں کو صالح و تقویٰ کی دعوت دیتا ہے، اس کی مخالفت کرنا اسے ایذا پہنچانا اور طرح طرح کی اسے دھمکی دینا، اللہ کو ہرگز گوارہ نہیں۔ وہ کافر و مجرم انسان جو میرے بندے اور رسول کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، ایمان و اسلام سے روگردانی کرتا ہے، اور بعث بعدالموت اور حساب و جزا کا انکار کرتا ہے، اس کا اس دن کیا حال ہوگا جب وہ میدان محشر میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگیا، کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام کرتوتوں سے باخبر ہے اور آپ کو ڈرانے اور دھمکانے کے لئے وہ جو بھی حرکتیں کرتا ہے اس سے اچھی طرح واقف ہے۔