سورة العلق - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (سورۃ العلق۔ سورۃ نمبر ٩٦۔ تعداد آیات ١٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سورۃ العلق مکی ہے، اس میں انیس آیتیں اور ایک رکوع ہے تفسیر سورۃ العلق نام : دوسری آیت میں لفظ ” علق“ آیا ہے، یہی اس سورت کا نام رکھ دیا گیا ہے۔ زمانہ نزول : یہ سورت تمام کے نزدیک مکی ہے اور قرآن کریم کی پہلی سورت ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی تھی بخاری و مسلم نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حق آیا، یعنی جبریل امین آئے جب آپ غار حراء میں تھے، اور آپ سے کہا : پڑھئے، میں نے کہا : مجھے پڑھنا نہیں آتا تو انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور اتنا زور سے بھینچا کہ مجھے تھکا دیا، پھر چھوڑ دیا اور کہا : پڑھئے میں نے کہا : مجھے پڑھنا نہیں آتا تو انہوں نے مجھے بار پکڑا اور اتنا زور سے بھینچا کہ میں تھک گیا پھر چھوڑ دیا اور کہا : (اقراء باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراوربک الاکرم الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم) اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے اس حال میں واپس آئے کہ آپ کے دل پر کپکپی طاری تھی۔