سورة الشمس - آیت 11

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کی باعث جھٹلایا۔ (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) کافروں کے خائب و خاسر ہونے کی مثال قوم ثمود کی ہلاکت و بربادی کا قصہ ہے کہ جب انہوں نے اپنے نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو اللہ کے عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ مفسرینل کھتے ہیں کہ ان ایات کریمہ میں مندرجہ ذیل باتیں بنائی گئی ہیں : ١۔ گناہوں کا ارتکاب دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا داعی اور سبب ہوتا ہے۔ ٢۔ کفار مکہ کی جانب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب ان کی ہلاکت و تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کے سبب ہلاک کردیا تھا۔ ٣۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے برحق رسول ہیں اور قریش کی تکذیب کا کوئی معنی اور اعتبار نہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بعث بعد الموت اور قیامت کے دن جزا و سزا ان دلائل سے ثابت ہشیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم پو دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قوم ثمود نے اللہ کے نبی صالح کو اپنے طغیان اور سرکشی کی وجہ سے جھٹلادیا یا قوم ثمود نے اس عذاب کو جھٹلا دیا جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا اور اس عذاب کو ” طغوی“ اس لئے کہا گیا کہ وہ سختی میں حد سے متجاوز تھا۔ یہ طغیان و سرکشی یا عذاب کا جھٹلایا جانا اس وقت وقوع پذیر ہوا جب سردار ان قبیلہ نے اپنے بدبخت ترین آدمی ” قدار بن سالف“ کو اس بات پر ابھارا کہ وہ اونٹنی کو ہلاک کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے جب قوم ثمود کی طلب کے مطابق صالح (علیہ السلام) کی صداقت کی دلیل کے طور پر پہاڑ سے اونٹنی نکال دی، تو صالح (علیہ السلام) نے انہیں نصیحت کی کہ کوئی آدمی اسے ایذا نہ پہنچائے، یہ آزادی کے ساتھ جہاں چاہے گی جائے گی اور اپنی باری کے دن کنواں سے پانیپئے گی اسے تکلیف پہنچانا یا اس کی باری کے دن اسے پانیپ ینے سے روکنا، اللہ کے عذاب کو بلانا ہے۔ لیکن انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی اور اونٹنی کو ایذا پہنچانے کی صورت میں عذا کی بات کو جھٹلا دیا، اور قدار بن سالف نے ان کے ایماء پر اونٹنی کو قتل کردیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گناہ کے سبب پوری قوم کو ہلاک کردیا، ان میں سے ایک فد بھی نہ بچا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے ان کی ہلاکت و بربادی کے سبب کسی کا خوف نہیں ہے اس لئے کہ وہ سب کا مالک اور سب کا رب ہے، وہ اپنے بندوں پر غالب و قاہر ہے، کوئی نہیں جو اس کے فیصلوں پر اعتراض کرسکے۔ سورۃ الشعراء آیات (١٥٥/١٥٦/١٥٧/١٥٨) میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا ہے : (قال ھذہ ناقۃ لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم، ولا تمسوھا بسوء فیاخذکم عذاب یوم عظیم فعقروھا فاصبحوا نادھین فاخذھم العذاب) ” صالح نے کہا : یہ اونٹنی ہے، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرر دن کی باری پانی پینے کی تمہاری ہے خبر دار اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تمہاری گرفت کرلے گا پھر بھی انہوں نے اس کی کو چین کاٹ ڈالیں، پسوہ پشیمان ہوگئے اور عذاب نے انہیں آ دبوچا“ وباللہ التوفیق