سورة الفجر - آیت 6

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے کفار و مشرکین کو ڈرانے کے لئے قرآن کریم میں بارہا گزشتہ کافر قوموں کی سرکشی اور پھر ان کے انجام بد کا ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات سے بھی مقصود کفار قریش کو خوف دلانا ہے کہ اگر تم بھی اپنے کفر و عناد پر اصرار کرو گے تو بعید نہیں کہ تمہارا انجام بھی عاد و ثمود جیسا ہو۔ ان آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ کیا آپ نے قرآن کریم میں مذکورتاریخی جھرکوں سے جھانک کر دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے قوم عاد کا کیا حال بنایا، جن کا لقب ” ارم“ تھا اور جن کے اجسام بہ تلمبے ہوتے تھے اور جنہیں اللہ نے بڑا قوی اور تنومند بنایا تھا اور جن کے گھروں کے ستون ان کے اجسام کے طویل ہونے کے سبب خیموں کے ستونوں کے مانند لمبے ہوتے تھے، بعض مفسرین نے (ذات المعاد) کی تفسیریہ بیان کی ہے کہ وہ لوگ خیمہ زن مسافروں کی طرح ہریالی والی جگہوں کی تلاش میں رہتے تھے اور جہاں ایسی جگہ ملی جاتی وہیں خیمہ زن ہوجاتے تھے اور باقی ایام میں اپنے اصلی مقام ” احقاف“ میں واپس آجاتے تھے جو حضرت موت میں واقع تھا۔ بہرکیف وہ لوگ جسمانی قوت و جبروت میں دوسری قوموں سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور عزت و شرف میں بھی اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے تھے اور کبر و نخوت ان کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اسیلئے اللہ تعالیٰ نے جب ہود (علیہ السلام) کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مبعوث کیا تو انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور کفر کی راہ اختیار کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ حم السجدہ آیت (١٥) میں ان کے بارے میں فرمایا ہے : (فاما عاد فاستکبروا فی الارض بغیر الحق وقالوا من اشدمناقوۃ) ” عاد نے بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے“ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے بہت ہی زیادہ زور آور ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت تیز و تند باد صرصر کے ذریعہ انہیں ہلاک کردیا اور دنیا سے ان کا وجود ختم کردیا۔