سورة الغاشية - آیت 17

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے وہ کس طرح پیدا کئے (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) مشرکین مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید اور عقیدہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے تھے مندرجہ ذیل آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض مخلوقات کا ذکر کر کے انہی مشرکین کو دعوت فکر و نظر دی ہے اور کہا ہے کہ جو باریتعالیٰ ان مخلوقات کی تخلیق پر قادر ہے وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر یقیناً قادر ہے اور بلاشبہ وہی تنہا معبود برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ بعث بعد الموت اور جنت و جہنم کے منکر ہیں کیا وہ غور نہیں کرتے کہ اس نے اونٹ کو کیسی عجیب شکل میں پیدا کیا ہے اور کس طرح اسے انسانوں کے لئے مسخر کردیا یہ تاکہ اس کا دودھ پئیں اس پر سواری کریں اور اس کا گوشت کھائیں۔ اور کیا وہ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ اس نے اسے بغیر ظاہری ستونوں کے قائم کر رکھا ہے اور اسے شمس و قمر اور کواکب کے ذریعہ زینت بخشی ہے اور کیا وہ لوگ پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مہیب چٹانوں کی زمین پر میخ گاڑ رکھی ہے اور کس طرح اس نے زمین کو پھیلا دیا ہے تاکہ اس کے بندے اس پر بسہولت زندگی گذار سکیں، اس پر چل پھر سکیں، کھیتی کرسکیں، مکانات بنا سکیں اور دیگر امور زندگی کو پورا کرسکیں۔ باری تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے یہ مظاہر ذی ہوش انسانوں کو اس ایمان و ایقان پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ قادر مطلق گلی سڑی ہڈیوں کو جمع کر کے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر یقیناً قادر ہے۔