سورة الأعلى - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے (سورۃ الأعلی۔ سورۃ نمبر ٨٧۔ تعداد آیات ١٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سورۃ الاعلی مکی ہے، اس میں انیس آیتیں اور ایک رکوع ہے تفسیر سورۃ الاعلیٰ نام : پہلی آیت میں لفظ ” الاعلی“ آیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے یہی اس سورت کا نام دیا گیا ہے۔ زمانہ نزول : جمہور مفسرین کے نزدیک یہ سورت مکی ہے، حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے، اس کے مکی ہونے کی دلیل براء بن عازب کی حدیث ہے جسے بخاری نے روایت کی ہے، کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو اہل مدینہ آپ کی آمد پر اتنا خوش ہوئے کہ اس سے پہلے کسی بات سے اتنا خوش نہیں ہوئیت ھے، یہاں تک کہ میں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے جب آپ آئے تو میں نے (سبح اسم ربک الاعلی) اور اسی جیسی دوسری سورتیں پڑھیں۔ مسند احمد میں علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سورت کو بہت پسند کرتے تھے اور صحیح مسلم میں نعمان بن شیر سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین میں اور جمعہ کے دن (سبع اسم ربک الاعلی) اور (ھل اتاکا حدیث الغاشیۃ) پڑھا کرتے تھے اور اگر عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہوجاتے تو انہیں دونوں میں پڑھتے اور ابو داؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ نے ابی بن کعب اور عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر میں (سبح اسم ربک الاعلی) اور (قل یایھا الکافرون) اور (قل ھو اللہ احد) پڑھتے تھے۔