سورة المطففين - آیت 16

ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) ان مجرمین کو ان کے کفر و معاصی کیت یسری سزا یہ ملے گی کہ وہ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جس میں ہمیشہ جلتے رہیں گے حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے ” بدائع الفوائد“ میں اس آیت کے ضمن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دو قسم کے عذاب دے گا، عذاب حجاب اور عذاب نار عذاب حجاب (یعنی اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھنے) سے ان کے دلوں اور ان کی روحوں کو نہایت شدید تکلیف ہوگی اور عذاب نار سے ان کے اجسام جلتے رہیں گے اور اپنے محبوب بندوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنی قربت اور اپنی دید سے نوازے گا اور جنت کی بیش بہا نعمتوں، حورعین اور دیگر بے شمار نعمتوں سے نوازے گا، جیسا کہ سورۃ الدہر آیت (١١) میں آیا ہے : (ولقاھم نضرہ وسروراً) ” اللہ تعالیٰ انہیں تازگی اور خوشی پہنچائے گا۔ “ آیت (١٧) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مجرمین کی مزید زجر و توبیخ اور انہیں مزید ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جسے تم لوگ دنیا کی زندگی میں جھٹلایا کرتے تھے اس لئے کہ انسان کے لئے یہ غایت درجہ کی تکلیف کی بات ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس سے کوئی کہے کہ تم جو کچھ بھگت رہے ہو تمہارے کرتوتوں کا پھل ہے۔