سورة الإنسان - آیت 7

يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) اہل جنت کو یہ نعمت ہائے بے بہا اس سبب سے ملیں گی کہ وہ جن اعمال صالحہ کو اپنے اوپر واجب کرلیتے تھے انہیں ضرور پورا کرتے تھے اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ اللہ کی جانب سے واجب کردہ اعمال صالحہ کو بدرجہ اولی پورا کرتے تھے اور اس دن کے عذاب سے ڈرتے تھے جس کا شر زمین و آسمان کو بھر دے گا اور اسی خوف کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ہر اس برے عمل سے کنارہ کشی کرلی تھی جو قیامت کے دن عذاب کا سبب بنتا۔ اور وہ مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے تھے باوجودیکہ ان کے پاس کھانا کم ہوتا تھا یا مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا اور اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے تھے، اس مفہوم کی تائید اس کے بعد والی آیت (٩) سے ہوتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے کھانا کھلانے والوں کی بات نقل کی ہے کہ وہ جنہیں کھانا کھلاتے ہیں ان سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے تمہیں کھانا کھلا رہے ہیں، ہم کو تم سے اس کا نہ کوئی بدلہ چاہئے اور نہ اس کے لئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم ہماری تعریف کرتے پھرو۔