سورة القلم - آیت 1

ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ن، قسم ہے قلم کی اور (١) اس کی جو کچھ وہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) قرآن کریم میں موجود دیگر حروف مقطعات کی طرح حرف ” ن“ بھی ایک حرف مقطع ہے، جس کا حقیقی معنی و مفہوم صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور گزشتہکئی ایسی سورتوں کی ابتدا میں لکھا جا چکا ہے کہ ممکن ہے اس سے مقصود اہل رب کو چیلنج کرنا ہو کہ یہ قرآن بھی انہی حروف سے مرکب ہے جن سے تمہارا کلام بنتا ہے، تو اگر یہ قرآن کسی انسان کا کلام ہے تو تم بھی اس جیسا لا کر دکھاؤ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس قلم کی قسم کھائی ہے جسے اللہ نے پہلے پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا تو اس نے کہا کہ کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے تمام کو لکھ ڈالو، نیز اللہ تعالیٰ نے ان تمام اشیاء کی قسم کھائی ہے جنہیں فرشتے لوح محفوظ سے نقل کرکے لکھتے ہیں اور بندوں کے انتمام اعمال کی بھی قسم کھائی ہے جنہیں اللہ کے مکرم فرشتے یعنی ” کراما کاتبین“ لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہے کہ واقعی آپ کو آپ کے رب نے نبوت کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے، اور آپ پر وحی نازل ہوتی ہے، جس کے زیر اثر لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں، کفار و مشرکین محض شدت حسد سے آپ کو مجنوں کہتے ہیں، آپ مجنوں نہیں، بلکہ عظیم الشان نبی ہیں اور اسلام کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے میں آپ جو تکلیف اٹھا رہے ہیں اور اس کا جو عملی نمونہ اپنے کردار کے ذریعہ پیش کر رہے ہیں اس کا اجر و ثواب آپ کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں مشرکین مکہ کس ایافترا پردازی کی تردید کی گئی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر (٦) (وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون) میں بیان کیا ہے، جس کاترجمہ ہے :” اور مشرکوں نے کہا کہ اے وہ شخص (یعنی محمد) جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے، تو یقیناً پاگل ہے،“ اور اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی مذکور بالا قسم کھائی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عظیم اخلاق کے مالک ہیں امام مسلم نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلق قرآن تھا، یعنی آپ کے اخلقا وہی تھے جس کی قرآن نے شہادت دی ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہایت عالی اخلاق، بلند کردار، فصاحت تامہ اور عقل کامل کے مالک تھے، آپ ہر عیب سے پاک اور ہر خوبی کے ساتھ متصف تھے اور جو شخص ان صفات کے ساتھ متصف ہوگا، اسے مجنون اور پاگل کہنا جنون کی بات ہوگی۔