سورة التغابن - آیت 17

إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو گے) (١) تو وہ اسے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا (٢) اللہ بڑا قدردان اور بڑا برد بار ہے (٣)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(15) اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی مزید ترغیب دلاتے ہوئے لوگوں سے کہا گیا کہ تم اس کی راہ میں جو حلال مال بھی خرچ کرو گے گویا اسے قرض دو گے، جسے کئی گنا بڑھا کر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اور مزید برآں تمہارے گناہ بھی معاف کردیئے جائیں گے، اس لئے کہ وہ ” شکور“ ہے، اپنے بندے کے تھوڑے عمل کے عوض اجر کثیر دیتا ہے اور وہ ” حلیم“ ہے، گناہوں پر جلد مؤاخذہ نہیں کرتا، بلکہ توبہ کی مہلت دیتا ہے اور وہ غائب و حاضر تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے، اس لئے کوئی عمل خیر اس کے نزدیک ضائع نہیں ہوتا اور وہ بڑا ہی زبردست اور بڑی حکمتوں والا ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اس کے تمام اوامرو نواہی حکمتوں سے پر ہیں جنہیں وہی جانتا ہے۔