سورة المجادلة - آیت 12

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اے مسلمانو! جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو (١) یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزہ تر ہے (٢) ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(10) حسن بصری کا قول ہے کہ یہ آیت بعض مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بار بار خلوت میں بات کرتے تھے تو دوسرے صحابہ پر اس کا برا اثر پڑتا تھا وہ سوچتے تھے کہ ہمارا درجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک کم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم دیا، تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے والے کم ہوجائیں۔ زید بن اسلم کا قول ہے کہ ایسا یہود و منافقین کرتے تھے اور آپس میں کہتے تھے کہ محمد کان کا کچا ہے، ہر ایک کی بات پر کان دھر لیتا ہے اور کسی کو اپنے ساتھ سرگوشی کرنے سے نہیں روکتا ہے اور مخلص صحابہ کرام پر اس کا برا اثر پڑتا تھا، شیطان ان کے دلوں میں شک ڈال دیتا تھا کہ شاید انہوں نے مسلمانوں کے کسی دشمن فوج کی بات کی ہے جو مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آیت (9) نازل فرمائی، لیکن یہود و منافقین اپنی شرارت سے باز نہیں آئے، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کا حکم دیا گیا چنانچہ یہود و منافقین مخلص نہ ہونے کی وجہ سے اور مال کی محبت میں سرگوشی کرنے سے رک گئے، لیکن غریب مسلمانوں پر یہ حکم شاق گذرا وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ضروری مسائل پوچھنا چاہتے اور صدقہ کے لئے مال نہ ہونے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات نہ کر پاتے چنانچہ چند ہی دنوں کے بعد صدقہ دینے کا حکم منسوخ ہوگیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرتے وقت ان کا غایت درجہ احترام کریں، اور پاس ادب ملحوظ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ذلک خیرلکم و اطھر) یعنی ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دینا تمہارے لئے ہر طرح بہتر ہے“ تمہیں اس کا کئی گنا اجر و ثواب ملے گا اور تمہارے غریب مسلمان بھائیوں کا بھلا ہوگا پھر اللہ نے فرمایا : (فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم) ” اگر صدقہ کے لئے تمہارے پاس مال نہ ہو، تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ “ آیت (13) میں ان بعض مسلمانوں کی زجر و توبیخ کی گئی ہے جو فاقہ اور محتاجی کے ڈر سے صدقہ کرنے سے کتراتے تھے اس لئے کہ اللہ کا تو وعدہ ہے کہ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والے کو کئی گنا بڑھا کر بدلہ دیتا ہے۔ (فاذلم تفعلوا و تاب اللہ علیکم) الآیۃ میں یہ حکم بیان کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دینا اب امرواجب نہیں، بلکہ مستحب رہ گیا، اس لئے اب جو شخص صدقہ نہ کرسکے اس کے لئے کوئی حرج کی بات نہیں، لیکن وہ اخلاص کیساتھ اپنی نمازوں کی حفاظت کرے، زکاۃ ادا کرے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں سستی نہ کرے، تاکہ صدقہ کے لئے مال نہ ہونے کی کمی پوری ہوتی رہے اور اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا رہے۔