سورة الحديد - آیت 25

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا (١) تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو اتارا (٢) جس میں سخت ہیبت اور قوت ہے (٣) اور لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فائدے ہیں (٤) اور اس لئے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بےدیکھے کون کرتا ہے (٥) بیشک اللہ قوت والا زبردست ہے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(23) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کی بعثت کی غرض و غایت اور ان تین چیزوں کو بیان کیا ہے، جو ان انبیاء کی تائید و تصدیق کے لئے انہیں دی گئی تھیں، پہلی چیز جو ان کی تائید کے لئے دی گئی دلائل و معجزات تھے اور دوسری چیز کتاب الٰہی تھی، جس میں مخلوق کے دین و دنیا کی بھلائی کی ہر بات بیان کردی گئی تھی اور تیسری چیز کو اللہ تعالیٰ نے ” میزان“ سے تعبیر کیا ہے، جس کی تفسیر مجاہد اور قتادہ وغیرہ نے ” عدل“ کے ذریعہ کی ہے اور حافظ ابن کثیر نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ حق ہے جس کے حق ہونے کی گواہی وہ سبھی لوگ دیتے ہیں جو عقل سلیم رکھتے ہیں۔ اور ان تمام چیزوں کے ساتھ انبیاء کی بعثت کی غرض و غایت یہ تھی کہ جس دعوت حق کو پھیلانے کے لئے اللہ نے انہیں مبعوث کیا ہے، لوگ اسے قبول کریں، صرف اللہ کی بندگی کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اللہ کے نازل کردہ قانون عدل و انصاف کو نافذ کریں، جس کی تفصیل اللہ کی کتاب اور اس کے رسول (ﷺ) کی سنت میں موجود ہے قانون جنایات، قصاص، حدود، احکام میراث، اور دیگر حقوق انسانی، سب اسی ضمن میں آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بندوں سے تقاضا ہے کہ وہ ان تمام قوانین و احکام کو اپنی انفرادی او اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت و قوت ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فائدے ہیں“ اس جملے کا جملہ سابقہ سے تعلق یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل و خرد سے نوازا ہے، وہ کتاب الٰہی کی آیات سنتے ہی ان پر عمل کرنے لگتے ہیں، اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف کو قائم کرنے لگتے ہیں اور جو عام لوگ ان کے مخلص پیروکار ہوتے ہیں ان پر جب قوانین شریعت کا نفاذ ہوتا ہے تو انہیں قبول کرلیتے ہیں اور نظام عدل جاری ہوجاتا ہے اور جو لوگ سرکشی کی راہ اختیار کرتے ہیں اور نظام عدل کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں، انہیں حکومت کی طاقت نظام عدل کی پابندی پر مجبور کردیتی ہے۔ لوہے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے بہت سے فوائد رکھے ہیں، تمام جنگی آلات و اسلحہ اسی سے بنتے ہیں مختلف الانواع صنعتیں برتنوں کی قسمیں اور کھیتی کے آلات اسی سے تیار ہوتے ہیں بلکہ یوں کہنا صحیح ہوگا کہ انسانی زندگی میں استعمال ہونے والی شاید ہی کوئی ایسی چیز ہے جس میں لوہے کا کسی نہ کسی طرح استعمال نہ ہوتا ہو۔ آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوہے کی تخلیق کا مقصد یہ بھی ہے کہ اس سے جہاد میں استعمال ہونے والے ہتھیار تیار ہوں، جنہیں مجاہدین فی سبیل اللہ استعمال کریں، اور اللہ کے سامنے یہ بات کھل کر آجائے کہ کون اس کی رضا کی خاطر محض غیبی امور پر ایمان رکھتے ہوئے اس کی راہ میں لوہے سے بنے اسلحہ کا استعمال کرتا ہے اور اللہ کے دین کو غالب بنانے کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ اور اللہ تو بڑی قوت والا اور ہر چیز پر غالب ہے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے، اس نے تو بندوں کو جہاد اسلامی کا اس لئے حکم دیا ہے تاکہ اس کی اطاعت کر کے اس کی رضا اور اس کی جنت کے مستحق بنیں۔