سورة الحديد - آیت 16

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا اب تک ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہوجائیں (١) اور ان کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی (٢) پھر جب زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے (٣) اور ان میں بہت سے فاسق ہیں۔ (٤)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٥) شوکانی لکھتے ہیں کہ یہ آیت مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ان سے مقصود ایمان والوں کو یہ رغبت دلانی ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی جائے، یا اللہ تعالیٰ کا ذکر آئے تو صداقت ایمانی کا تقاضا ہے کہ ان کے دلوں میں رقت و خشوع پیدا ہو حسن بصری کہتے ہیں کہ صحابہ کرام اللہ کی نگاہ میں محبوب ترین لوگ تھے اور وہ اللہ کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے تھے اور ان کے دلوں پر قرآن سن کر بہت زیادہ رقت و خشوع طاری ہوجاتا تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس آیت میں کہا ہے کہ ذکر الٰہی سے ان کے دلوں پر کما حقہ خشوع طاری ہوجاتا تھا، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس آیت میں کہا ہے کہ ذکر الٰہی سے ان کے دلوں پر کما حقہ خشوع طاری نہیں ہوتا، تو پھر دیگر مسلمانوں کو تو زیادہ ڈرتے رہنا چاہئے اور قرآن سن کر خشع قلب کا زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت میں ” ذکر“ سے مراد اللہ تعالیٰ کا نام، یا قیامت کے دن کا اس کا وعدہ ووعید ہے، اور ” وما نزل من الحق) میں ” حق“ سے مراد قرآن کر یم ہے بعض نے ” ذکر“ اور ” حق“ دنوں سے قرآن کریم مراد لیا ہے۔ آیت کے دوسرے حصہ (ولایکونوا کالذین اوتوا الکتاب) الآیۃ میں مومنوں کو یہود و نصایٰ کی طرح ہوجانے سے منع کیا گیا ہے، جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی طرح تورات و انجی نازل فرمایا، لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کتابوں سے ان کا رشتہ کمزور ہوتا گیا اور وہ انبیاء کی تعلیمات کو فراموش کرتے گئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دلوں سے خشیت الٰہی جاتی رہی، ان میں سختی پیدا ہوگئی اور انہوں نے تورات و انجیل کو بدل ڈالا اور ان کے احکام پر عمل کرنا ترک کردی۔ حافظ ابن کثیرلکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں مومنوں کو یہود و نصاریٰ کے مانند ہوجانے سے منع فرمایا گیا ہے جنہوں نے مرور زمانہ کے ساتھ معمولی دنیاوی فائدوں کے لئے اللہ کی کتاب کو بدل دیا، اسے پس پشت ڈال دیا، انسانوں کے خود ساختہ اقوال کو دین، اور اپنے علماء و احبار کو معبود بنا لیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل سخت ہوگئے اور اللہ کے کلام کو بدل دینا ان کی عادت بن گئی۔ اسی لئے اللہ نے مومنوں کو کسی بھی معاملے میں ان کی مشابہت سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کی اسی حالت کو بیان کرتے ہوئے سورۃ المائدہ آیت (١٣) میں فرمایا ہے : (فبما نقضھم میثاقھم لعناھم وجعلنا قلوبھم قاسیۃ یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسوا حظامماذکروابہ الآیۃ) ” پھر ہم نے ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر لعنت بھیج دی اور ان کے دل سخت کردیئے (جس کے نتیجے میں) وہ اللہ کے کلام میں تحریف پیدا کرنے لگے اور انہیں جو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے “