سورة القمر - آیت 44

أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢١) اگر کفار قریش اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ ان کی جماعت اتنی کثیر اور طاقتور ہے کہ کوئی ان پر غالب نہیں آسکتا؟ تو سن لیں کہ ان کی شکست ہو کر رہے گی، چاہے وہ کفار قریش ہوں یا عام کفار عرب اور وہ میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر ایسا بھاگیں گے کہ مڑ کر بھی نہیں دیکھیں گے اور معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوجاتا ہے، بلکہ ان کا اصل موعد تو یوم آخرت ہے، جو بڑی ہی کٹھن گھڑی ہوگی اور جس کے عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور جو دنیا کے عذاب سے بہت ہی زیادہ سخت ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ میدان بدر میں بدترین شکست سے دوچار ہوئے اور کفر و شرک کے بڑے بڑے سرداران مسلمانوں کی تلواروں کے ذریعہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے گئے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی دلیل ہے، اس لئے کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی، جس میں یہ غیبی خبر دی گئی تھی کہ کفار قریش کی شکست ہوگی اور وہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگیں گے اور اس کی تصدیق ٢ ھ میں غزوہ بدر کے ذریعہ ہوئی۔ امام بخاری نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان بدر میں پورے الحاج کے ساتھ اپنے رب سے مسلمانوں کی کامیابی کے لئے دعا کی، پھر اپنے خیمے سے جست لگا کر اس سورت کی یہی دونوں آیتیں پڑھت ہوئے نکلے۔