سورة النجم - آیت 19

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) مذکورہ بالا آیتوں میں دین اسلام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت، وحی الٰہی اور توحید باری تعالیٰ کا ذکر کئے جانے کے بعد اب مشرکین مکہ کی بت پرستی اور ان کے جھوٹے معبودوں کی حیثیت بیان کی جا رہی ہے کہ ہو تو مٹی اور پتھر کے بنے ہوئے بت میں جن کے تم نے مختلف نام رکھ لئے ہیں اور جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان کیا تم اندھے ہوگئے ہو کہ تم انہیں اس اللہ کے برابر سمجھتے ہو جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟! اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے تین مشہور بتوں کے نام لئے ہیں، جو اہل عرب میں بڑے مشہور تھے اور جن کے وہ بڑے معتقد تھے اور اللہ کے ناموں سے ان کے نام اخذ کرتے تھے، کہتے تھے کہ اللہ سے ” اللات“ اور العزیز سے ” العزی“ ماخوذ ہے، جو ” الاعز“ کا مؤنث ہے اور جو ” العزیزۃ“ کے معنی میں ہے اور ” المنان“ سے ” مناۃ“ ہے اس طرح وہ اپنے ان بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے۔ الصحاح میں ہے کہ ” اللات“ بنی ثقیف کے ایک بت کا نام تھا، جو طائف میں تھا اور ” العزی“ قریش اور بنی کنانہ کا ایک بت تھا مجاہد کہتے ہیں کہ غطفان میں ایک درخت تھا، جس کی لوگ عبادت کرتے تھے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو بھیج کر اسے کٹوا دیا تھا بعض کی رائے ہے کہ ” بطن نخلہ“ میں ایک شیطانہ تھی جو ہر سال تین موسموں میں آیا کرتی تھی، سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” العزی“ ایک سفید پتھر تھا جس کی وہ لوگ عبادت کرتے تھے، ” مناۃ“ بنی ہلال کے بت کا نام تھا اور ابن ہشام کا خیا ہے کہ وہ ہذیل و خزاعہ کے بت کا نام تھا صاحب محاسن التنزیل نے لکھا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان، قدید کے پاس مشلل میں ایک چٹان تھا، جس کی خزاعہ اور اوس و خزرج والے زمانہ جاہلیت میں تعظیم کرتے تھے اور وہیں سے حج بیت اللہ کے لئے تکبیر کہنا شروع کرتے تھے، امام بخاری نے عائشہ (رض) سے یہی روایت کی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ جزیرہ عرب میں مذکورہ بالا بتوں کے عالوہ بھی طواغیت یعنی جھوٹے معبود تھے، جن کی اہل عرب خانہ کعبہ کی طرح تعظیم کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا بتوں کا ذکر ان کے زیادہ مشہور ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔