سورة النجم - آیت 11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

دل نے جھوٹ نہیں کہا (پیغمبر نے) دیکھا (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جبریل (علیہ السلام) ان کے پاس ان کے رب کی وحی لے کر آئے اور ان کے دل نے بھی اس کی تصدیق کی اور یقین کرلیا کہ یہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتہ جبریل ہیں جو اللہ کی وحی لے کر آئے ہیں، یہ کوئی شیطانی خیال نہیں ہے یعنی کان، آنکھ اور دل تینوں اس پر متفق تھے کہ جبریل ہیں جو وحی الٰہی لے کر آئے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں مراد اللہ کی وہ عظیم الشان نشانیاں ہیں جن کا مشاہدہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کی رات میں کیا تھا اور جن کا ان کے دل نے بھی یقین کرلیا تھا۔ اور بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا اور ہم کلام ہوئے تھے، لیکن صحیح یہی ہے کہ آیت میں مراد جبریل (علیہ السلام) کی رؤیت ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل کو ان کی اصلی صورت میں دوبارہ دیکھا تھا پہلی بار بعثت کے کچھ ہی دنوں کے بعد آسمان دنیا کے نیچے افق کی بلندیوں میں دیکھا جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے اور جو آیات (٨/٩) کی تفسیر میں بیان کیا جا چکا ہے، جبریل (علیہ السلام) کو آنکھوں سے دیکھا اور دوسری بار شب معراج میں ساتویں آسمان پر دیکھا، جس کا ذکر آیت (١٣) کی تفسیر میں آئے گا۔ آیت (١٢) میں مشرکین مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ میرے نبی نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا، اس میں تم کیوں شبہ کرتے ہو، اور جو بات تمہارے فہم و تصور سے بالاتر ہے، اس کے بارے میں تم ان سے کیوں جھگڑتے ہو، امام بخاری نے ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے، جبریل (علیہ السلام) کو آنکھوں سے دیکھنا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیائے کرام کے ساتھ خاص ہے، دوسرے لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ہیں، انہیں تو بس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر یقین کر کے ایمان لے آنا چاہئے کہ واقعی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔