سورة الذاريات - آیت 52

كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اس طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(21) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کی قوم اگر آپ کو ساحر و مجنون کہتی ہے تو اس سے دل برداشتہ نہ ہوں کیونکہ کافر قوموں کا ہمیشہ یہی شیوہ رہا ہے کہ جب بھی ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول آیا تو اسے جادوگر اور پاگل کہا۔ آیت (٣٥) میں اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے اہل کفر کی حالت پر اظہار تعجب کیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تمام اہل کفر ایک دوسرے کو یہ بات سکھاتے آئے ہیں کہ جب بھی کوئی نبی آئے تو اسے ساحر و مجنون کہا جائے، گویا سب کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے آیت کے دوسرے حصہ میں کہا گیا ہے کہ اہل کفر کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی ہے جبھی تو انہوں نے ہمارے رسول کے بارے میں اتنی بری بات کہی ہے، درحقیقت ان کی فطرت خبیث ہے، اسی لئے انہوں نے اپنی زبان سے اتنی قبیح و شنیع بات کہی ہے۔ اسی لئے آیت (٤٥) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی کہ آپ ان کے ساتھ نہ الجھئے، آپ نے اپنا کام کردیا، اب آپ عند اللہ قابل ملامت نہیں ہیں، اس لئے کہ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔ امام شوکانی لکھتے ہیں کہ یہ حکم آیت جہاد کے ذریعہ منسوخ ہوچکا ہے۔