سورة الذاريات - آیت 1

وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) ابن جریر، ابن ابی حاتم، خاکم اور بیہقی وغیرہم نے علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ کوفہ کی مسجد میں خطبہ دے رہے تھے، تو ابن الکواء نامی شخص نے ان سے اس سورت کی چار ابتدائی آیتوں کا معنی دریافت کیا، انہوں نے کہا کہ (ولاذاریات ذروا) سے مراد تیز ہوا ہے جو مٹی اڑاتی ہے اور (فالحاملات وقرا) سے مراد بادل ہے، جو بارش کا پانی اٹھائے پھرتا ہے اور (فالجاریات یسرا) سے مراد کشتیاں ہیں جو سمندروں میں ہوا کے سہارے سبک رومی کے ساتھ چلتی رہتی ہیں اور (فالمقسمات امرا) سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم کے مطابق اس کی مخلوقات کے درمیان بارش، روزی اور دیگر اسباب زندگی تقسیم کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے ” الذاریات، الحاملات، الجاریات، المقسمات“ چاروں سے ہوائیں مراولی ہیں، یعنی بعض ہوا غبار اڑاتی ہے، بعض بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھائے پھرتی ہے اور بعض بارش کو تقسیم کرتی ہے، امام شوکانی لکھتے ہیں کہ یہ رائے بہت ہی کمزور ہے۔