سورة ق - آیت 42

يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

جس روز اس تند تیز چیخ کو یقین کے ساتھ سن لیں گے یہ دن ہوگا نکلنے کا (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ کو بذریعہ وحی روز قیامت کے جو احوال بتائے جا رہے ہیں، انہیں غور سیسنئے، جس دن اسرافیل دوسرا صور پھونکیں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی، اور ہر مردہ زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف دوڑ پڑے گا، ایک دوسری رائے یہ ہے کہ اسرافیل صور پھونکیں گے اور جبرئیل محشر والوں کو پکاریں گے کہ حساب کے لئے چلو، اور یہ آواز اتنی قریب ہوگی کہ میدان محشر کا ہر فرد اسے سنے گا۔ آیت (٤٢) میں گزشتہ بات کی ہی صراحت کردی گئی ہے کہ جس دن لوگ قبر سے اٹھائے جانے اور میدان محشر میں جمع ہونے کے لئے اسرافیل کے صور کی آواز سنیں گے، وہ قبر سے نکلنے کا برحق دن ہوگا، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔