سورة الأحقاف - آیت 12

وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ وَهَٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَىٰ لِلْمُحْسِنِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٠) مشکین کے مذکور بالا قول (کہ یہ قرآن پرانا جھوٹ ہے) کی تردید کی گئی ہے کہ اس قرآن سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے جو لوگوں کی خیر کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور ان کے لئے باعث خیر و رحمت ہے اور دونوں کتابیں اصول شریعت میں متفق ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن بھی اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کریم تورات کی تصدیق کرتا ہے، یعنی دونوں میں بیان کردہ احکام و شرائع ایک جیسے ہیں، حالانکہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے اور تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی یہ بات دلیل ہے کہ قرآن وحی الٰہی ہے۔ نیز اللہ نے فرمایا کہ یہ قرآن اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشکین مکہ کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جنہوں نے شرک و معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، اور نیک عمل کرنے والے مومنوں کو جنت کی بشارت دیں۔