سورة الأحقاف - آیت 5

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا ؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بے خبر ہوں (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) اہل کفر کی شقاوت و بدبختی بیان کی جا رہی ہے کہ اس آدمی سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسے جھوٹے معبود کو پکارتا ہے جو اس کی پکار کو قیامت تک نہیں سن سکتا ہے، اس لئے کہ یا تو وہ مٹی یا پتھر کا بنا بت ہے یا کوئی بندہ عاجزو مسکین ہے جو اپنے حال میں مشغول ہے اور اللہ کی مرضی کے بغیر ایک تنکا بھی نہیں ہلا سکتا ہے بلکہ قیامت کے دن میدان محشر میں جب سب لوگ جمع ہوں گے تو وہ معبود ان باطل ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان سے اعلان برأت کردیں گے اور صاف صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے انہیں نہیں کہا تھا کہ یہ ہماری عبادت کریں، اور نہ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے ہماری عبادت کی تھی، اے ہمارے رب ! ہم ان سے اپنی بیزاری اور برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ معبود ان باطل کا اپنی زبان سے اس بات کا اعلان کہ ان مشرکین نے ہمار عبادت نہیں کی تھی، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ معبود یا تو شیاطین ہوں گے جو جھوٹ بولیں گے، یا ملائکہ اور عیسیٰ اور عزیز ہوں گے جو اپنی عبادت کئے جانے پر کبھی راضی نہیں تھے تو وہ حقیقت معنوں میں اپنی برأت کا اعلان کریں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، بلکہ ان شیاطین کی عبادت کرتے تھے جو انہیں شرک باللہ کی تعلیم دیتے تھے اور اگر وہ مٹی یا پتھر کے بنے بت ہوں گے تو یا تو وہ زبان حال سے مشرکین کو جھٹلائیں گے یا اللہ انہیں قوت گویائی دے دے گا اور وہ اپنے پجاریوں کی پرستش کا انکار کردیں گے، اس لئے کہ زمین و آسمان کا ایک ایک ذرہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔