سورة الزخرف - آیت 82

سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

آسمان زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس (سے) بہت پاک ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٧) اللہ تعالیٰ نے مذکور بالا مشرکانہ خیال سے اپنی پاکی بیان کی ہے، یعنی اس کی ذات اس عیب سے پاک ہے کہ کوئی اس کی اولاد ہے وہ تو آسمانوں اور زمین کا اور عرش بریں کا رب اور مالک ہے، ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اور اگر اس آیت کو بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گزشتہ قول کا ایک حصہ مانا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ میرا رب مشرکوں کے اس اتہام سے بالکل پاک ہے کہ کوئی اس کی اولاد ہے۔ وہ تو آسمانوں اور زمین اور عرش بریں کا رب اور مالک ہے کوئی چیز اس کے قبضہ قدرت سے خارج نہیں ہے۔