سورة الزخرف - آیت 45

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(19) تمام انبیائے کرام نے توحید باری تعالیٰ کی دعوت دی، کسی نے بھی بتوں کی پرستش کی طرف لوگوں کو نہیں بلایا، یعنی آپ نے اہل قریش کے سامنے کوئی نئی دعوت نہیں پیش کی ہے کہ وہ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اور آپ کے در پئے آزاد ہیں۔ یہ تو وہی دعوت ہے جو تمام انبیاء نے اپنی قوموں کے سامنے پیش کی تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ جو کہا گیا ہے کہ آپ گزشتہ انبیاء سے پوچھ لجییے تو اس سے مقصود تورات و انجیل کا علم رکھنے والے مومنوں سے پوچھنا ہے اس لئے کہ ان سے پوچھنا گویا ان انبیاء سے پوچھنا ہے جن پر وہ کتابیں نازل ہوئی تھیں۔