سورة الشورى - آیت 44

وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن وَلِيٍّ مِّن بَعْدِهِ ۗ وَتَرَى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَدٍّ مِّن سَبِيلٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں، اور تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راہ ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(26) اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کر دے، اسے کؤی راہ راست پر نہیں لا سکتا ہے اور قیامت کے دن مشرکین جب جہنم کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرلیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش دنیا کی طرف دوبارہ لوٹ جانے کی کوئی صورت نکل جاتی تاکہ ایمان لے آتے، اور موحد بن کر عذاب نار سے نجات پانے اور دخول جنت کے حقدار بن جاتے۔ انہیں جہنم کے سامنے لایا جائے گا تو ذلت و رسوائی کے نیچے دبے ہوں گے، اور مارے خوف و دہشت کے اس کی طرف ادھ کھلی نگاہوں سے دیکھیں گے، اور اہل ایمان اپنی کامیابی کے غبطہ و سرور میں اور جہنمیوں کی ذلت و رسوائی کو دیکھ کر کہیں گے کہ حقیقی گھاٹا اٹھانے والے آج وہ لوگ ہیں جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے اور جنت کی دائمی نعمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیئے جائیں گے اور کوئی نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کے لئے آگے آسکے اور حقیقت تو یہ ہے کہ جسے اللہ گمراہ کر دے وہ نہ تو دنیا میں راہ حق پر چل سکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں جنت کی راہ پر چل کر اس میں داخل ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی رسوائیوں سے بچائے۔