سورة فصلت - آیت 25

وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشین مقرر کر رکھے تھے جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے (١) تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وہ زیاں کار ثابت ہوئے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٧) اہل کفر و شرک کا باطل پر اصرار اور ان کے نفس کی خباثت جب حد سے تجاوز کر جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کچھ خبیث شیاطین کو ان کے ساتھ لگا دیتا ہے، جو ان کے دوست بن جاتے ہیں اور ان کے حاضر و مستقبل کے گناہوں کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں ایک دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ وہ شیاطین ان کی نگاہوں میں کفر و معاصی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں، پھر وہ ان میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں یہ بھی ڈال دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ جب ان کا حال یہ ہوجاتا ہے تو ان کے لئے ابدی شقاوت و بدبختی لکھ دی جاتی ہے او ان کا نام ان گزشتہ جن و انس کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی، خواہ گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور پھر دنیا و آخرت کا خسارہ ان کی قسمت بن جاتا ہے۔