سورة غافر - آیت 78

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کرچکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کئے (١) اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر لا سکے (٢) پھر جس وقت اللہ کا حکم آئے گا (٣) حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا (٤) اور اس جگہ اہل باطن خسارے میں رہ جائیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤٢) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید تسلی دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے انبیاء مبعوث کئے، ان میں سے بعض کے واقعات ہم نے قرآن کریم میں آپ کے لئے بیان کردیئے ہیں اور بعض کے بارے میں ہم نے آپ کو کچھ بھی نہیں بتایا ہے حا فظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جن کے نام نہیں بتائے گئے ہیں، ان کی تعداد ان انبیاء سے کئی گنا زیادہ ہے جن کے نام قرآن میں ذکر کئے گئے ہیں۔ قرآن میں صرف پچیس ہی انبیاء کے نام آئے ہیں۔ ان رسولوں کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے اپنی مرضی سے معجزات پیش کرتے، انہیں جب اللہ کا حکم ہوتا تھا جبھی اللہ کی قدرت سے کسی معجزے کا اظہار کرتے تھے اور جب کسی کا فرو سرکش قوم کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کردیتا تھا، تو وہ اپنے رسول اور اس کے پیروکار مومنوں کو بچا لیتا تھا اور اپنی کتاب اور اپنے رسول کی تکذیب کرنے والے مشرکوں کو ہلاک کردیتا تھا۔