سورة غافر - آیت 14

فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لئے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩) اہل ایمان کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم اپنی راہ پر چلتے رہو، اور کافروں کے غیظ و غضب کے علی الرغم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو بہت ہی اونچے درجات اور عرش والا ہے، یعنی جس کی رفعت شان اور عظمت و کمال کی کوئی انہتا نہیں ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے وحی بھیج کر اپنا رسول بنا دیتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کو اس دن سے ڈرائے جب اہل زمین آسمان والوں سے ملیں گے اور بندے اپنے خلاق کے سامنے حاضر ہوں گے، جس دنت مام وگ اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے، کوئی چیز انہیں اللہ سے نہیں چھپائے گی، جب تمام مخلوقات کی روحیں قبض کرلی جائیں گی، اللہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ تین بار کہے گا : آج بادشاہت کس کی ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا، اس اللہ کی ہے جو تنہا ہے اور جو ہر چیز پر قاہر و غالب ہے۔ بخاری و مسلم نے اسی معنی کی حدیث عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کی ہے۔ جس دن ہر شخص کو عدل الٰہی کے مطابق اس کے کئے کا بدلہ چکا دیا جائے گا، اس دن کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ صحیح مسلم میں ابو ذرغفاری (رض) سے حدیث قدسی مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس دن کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ صحیح مسلم میں ابو ذر غفاری (رض) سے حدیث قدسی مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے بندو ! میں نے اپنے آپ پر ظلم حرام کردیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے اس لئے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بڑا تیز حساب لینے والا ہے۔ سورۃ لقمان آیت (٢٨) میں آیا ہے : (ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ) ” تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد جلانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کا“