سورة الزمر - آیت 46

قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کو جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ الجھ رہے تھے (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٣٠ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ جب ان کے اور کافروں کے درمیان اختلاف شدید ہوجائے اور وہ تنگ دل ہونے لگیں، تو اپنے رب کی طرف تیزی کے ساتھ لپکیں، دعا کریں اور خشوع و خضوع کے ساتھ کہیں کہ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اور غائب و حاضر کے جاننے والے تو ہی اپنے مومن و کافر بندوں کے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کرنے والا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں تو حق کی طرف میری رہنمائی کرے۔