سورة الصافات - آیت 62

أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا (زقوم) کا درخت (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(16) اہل جنت کی خوش بختیوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کی بدبختیوں کا ذکر کیا ہے کہ اوپر اہل جنت کے لئے جن نعمتوں کا ذکر ہوا ہے وہ بہترین نعمت ہے، یا بدترین کڑوے زقوم کا درخت، جسے ہم نے ظالم کفار قریش کی آزمائش کا سبب بنا دیا ہے، جو کہتے ہیں کہ بھلا یہ بھی عقل میں آنے والی بات ہے کہ کوئی ایسا بھی درخت ہے جو آگ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں زقوم ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوتا ہے، جس کی شاخیں آگ میں لہلہاتی ہیں اور جس کے پھل شیطانوں کے سروں کے مانند بڑے اور قبیح المنظر ہوتے ہیں، جہنمی جب بھوک کی شدت سے تڑپیں گے تو اپنے آگے سوائے شجرز قوم کیک کچھ بھی کھانے کے لئے نہ پائیں گے، ناچاراسی کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھریں گے اور کھانے کے بعد جب انہیں پیاس لگے گی تو پینے کے لئے پیپ اور گندگی ملا ہوا شدید گرم پانی ملے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ کر باہر نکال دے گا۔ اور ہر حال میں ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہوگا جہاں بھڑکتی آگ کے شعلے ان کے ناتواں جسموں کو جلاتے رہیں گے، جیسا کہ سورۃ الرحمٰن آیات (٣٤، ٤٤) میں آیا ہے : (ھذہ جھنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا و بین حمیم ان) ” یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے مجرمین اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے۔