سورة الصافات - آیت 40

إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیدہ بندے (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(12) مذکورہ بالا عذاب نار سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مومن بندوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں انہیں ان کا رب جنت میں داخل کر دے گا اور بے شمار نعمتوں سے نوازے گا ان نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ انہیں بغیر انقطاع کے صبح و شام عدہ اور پاکیزہ روزی ملتی رہے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم آیت (٢٦) میں فرمایا ہے : (ولھم رزقھم فیھا بکر قوعشیا) ” وہاں ان صبح و شام روزی ملتی رہے گی۔ “ مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت (٢٤) میں ” فواکہ“ سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اہل جنت کا کھانا پینا بھوک اور پیاس کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض لذت حاصل کرنے کے لئے ہوگا اور وہاں وہ بہت ہی باعزت زندگی گذاریں گے اور وہ آمنے سامنے آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے اور انہیں شراب کی جاری نہروں سے پیالے بھر کر پیش کئے جائیں گے، ایسی شراب جس سے انہیں نہ کوئی بیماری ہوگی نہ ہی درد سر اور نہ اس کے زیر اثران کی عقل ہی مارے جائے گی۔