سورة الصافات - آیت 11

فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَا ۚ إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے ان کے علاوہ پیدا کیا ہے؟ (١) ہم نے (انسانوں) کو لیسدار مٹی سے پیدا کیا ہے؟ (٢)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جا رہا ہے کہ آپ مشرکین سے پوچھئے جو بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں کہ جسمان قوت و متانت میں وہ زیادہ ہیں یا آسمان و زمین اور پہاڑ؟ اس کا جواب اس کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں کہ وہ واقعی کمزور اور ناتواں جسم رکھتے ہیں، اور آسمانوں و زمین اور پہاڑ ان سے کہیں زیادہ قوی اور بڑے ہیں جنہیں اللہ نیپیدا کیا ہے اور یہ بات انہیں اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور کرتی ہے کہ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں ہے اس لئے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا بھی اس کے لئے بے حد آسان ہے۔ آیت کے آخر میں انسان کی کمزو ریو ناتوانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم نے تو اسے چکنی اور کمزور مٹی سے پیدا کیا ہے وہ اپنی اس حقیقت کو اور آسمان و زمین اور پہاڑوں کی قوت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیوں نہیں ایمان لاتا کہ جو اللہ ان مہیب آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہ یقیناً انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔