سورة سبأ - آیت 27

قُلْ أَرُونِيَ الَّذِينَ أَلْحَقْتُم بِهِ شُرَكَاءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کہہ دیجئے! اچھا مجھے بھی تو انھیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو، ایسا ہرگز نہیں (١) بلکہ وہی اللہ ہے غالب با حکمت۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

23 اس آیت کریمہ میں معبود ان مشرکین کے جھوٹے اور باطل ہونے کی ایک دلیل پیش کی گئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ جنہیں تم اللہ کا شریک بتاتے ہو ذرا دکھاؤ تو سہی کہ ان میں کون سی خوبی پائی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر تم نے انہیں اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے؟ پھر اللہ نے خود ہی بطور رد و انکار شرک جواب دیا کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں میں کوئی بھی ایسی صفت ثابت نہیں کرسکتے ہیں کوئی بھی ایسا معبود نہیں دکھا سکتے ہیں جو اللہ کے سوا انہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہو، وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی تنہا ذات ہے جو بڑی عزت والا ہر چیز پر غالب اور اپنے تمام اعمال میں حکیم و دانا ہے۔