سورة سبأ - آیت 10

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا (١) اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (٢) (یہی حکم ہے) اور ہم نے اسی لئے لوہا نرم کردیا (٣)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

8 اوپر کی آیت میں اللہ سے تعلق جوڑنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا ذکر آیا ہے کہ وہی لوگ اللہ کی عظیم نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں اور عبرت حاصل کرتے ہیں اسی مناسبت سے اس آیت میں اللہ نے اپنے دو ایسے بندوں اور انبیاء کا ذکر کیا ہے جن کی ایک بڑی صفت یہ تھی کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کو یاد کرتے تھے اور توبہ و استغفار میں مشغول رہتے تھے وہ دونوں داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان علیہا السلام تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے خاص فضل سے نوازا تھا، انیں نبوت، زبور اور بادشاہت دی تھی، پہاڑوں اور چڑیوں کو حکم دیا تھا کہ جب داؤد اپنے رب کی تسبیح بیان کریں تو وہ بھی ان کے ساتھ تسبیح بیان کریں، اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو موم کے مانند نرم بنا دیا اور انہیں حکم دیا کہ اسے جس طرح چاہیں استعمال کریں اور کشادہ اور مناسب حلقوں والی زر ہیں بنائیں، اور انہیں اور ان کے اہل و عیال کو حکم دیا کہ وہ جب تک زندہ رہیں عمل صالح میں لگے رہیں، اس لئے کہ ہم تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھتے ہیں اور قیامت کے دن ان کا تمہیں بدلہ چکائیں گے۔