سورة الأحزاب - آیت 38

مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں (١) (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہے جو پہلے ہوئے (٢) اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(31) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید اطمینان دلانے کے لئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنے نبی کے لئے جس شادی کو حلال کردیا ہے اور جسے اس نے انسانوں کے لئے آسمانی شریعت بنا دی ہے، اس میں آپ کے لئے نہ کوئی قباحت ہے اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام ہے۔ تمام گزشتہ انبیائے کرام کے سلسلے میں بھی اللہ کی یہی سنت جاریہ رہی ہے کہ ان کے لئے ان کے رب کی جانب سے جو چیز مباح بنا دی گئی، اسے کر گذرنے میں شرعی اور اخلاقی طور پر کوئی حرج نہیں تھا، انہوں نے شادیاں کیں، لونڈیاں رکھیں اور مباح و حلال چیزیں کھائیں اور ان کا عمل ان کی امتوں کے لئے نقش راہ بنا۔