سورة الروم - آیت 26

وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور زمین و آسمان کی ہر ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٦) آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات پائی جاتی ہیں سب اس کے بندے اور مملوک ہیں۔ اسی نے انہیں پیدا کیا ہے، وہ ان کا مالک ہے، اور جس طرح چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے۔ سب کی گردنیں اس کے حکم کے لئے جھکی ہوئی ہیں اور سب اس کے حکم کے لئے جھکی ہوئی ہیں اور سب اس کے لئے اپنی بندگی کے معترف ہیں اور وہ جس چیز کو چاہتا ہے بغیر کسی سابق نمونہ کے لفظ ” کن“ کے ذریعہ پیدا کرتا ہے اور اس کا وقت مقرر آجانے کے بعد اسے دنیا سے اٹھا لے گا اور پھر قیامت کے دن اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور یہ کام اس کے لئے بہت ہی آسان ہے، کیونکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار سے آسان ہوتا ہے اور یہ بات انسانی عقل و فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے کہی جا رہی ہے، ورنہ اللہ کی قدتر میں کوئی چیز کسی دوسری چیز سے زیادہ آسان نہیں ہے، اس کے کلمہ ” کن“ کے ذریعہ ہر چیز بلاتاخیر وجود میں آجاتی ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اعلیٰ وارفع صفت و تعریف اللہ کے لئے ہے، کوئی مخلوق اپنی کسی صفت میں اس کے مانند نہیں ہو سکتی۔ (ولہ المثل الاعلی) کا ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار سے زیادہ آسان ہے، تو یہ انسانوں کی عقل و فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا گیا ہے، اللہ کی ذات تو اس سے زیادہ اعلیٰ و ارفع صفت والی ہے، اس کے نزدیک تو تمام چیزوں کا وجود میں آنا برابر اور یکساں ہے۔