سورة العنكبوت - آیت 31

وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں (١) یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٧) اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے جو فرشتے بھیجے انہیں اس کا بھی مکلف کیا کہ وہ ان تک پہنچنے سے پہلے ابراہیم کو بیٹے (اسحاق) اور پوتے (یعقوب) کی خوشخبری دیتے جائیں انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خوش خبری دینے کے بعد یہ اندوہناک خبر دی کہ للہ نے انہیں قوم لوط کی بستیوں کو ان کے ظلم وکفر کی وجہ سے ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بستی والوں پر رحم کھاتے ہوئے اور اس امید میں کہ شاید وہ ایمان لائیں اور اپنے گناہوں سے تائب ہوجائیں کہا کہ لوط بھی وہاں رہتے ہیں پھر تم انہیں کیسے ہلاک کرو گے، فرشتوں نے جواب دیا ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون لوگ ہیں، ہم انہیں اور ان کے مسلمان رشتہ داروں کو بچالیں گے اور ان کی بیوی سمیت تمام کافروں کو ہلاک کردیں گے۔