سورة العنكبوت - آیت 24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اس مار ڈالو یا اسے جلا (١) دو آخر اللہ نے انھیں آگ سے بچا لیا (٢) اس میں ایماندار لوگوں کے لئے تو بہت سی نشانیاں ہیں۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(13) ابراہیم (علیہ السلام) کی اس وعظ ونصیحت اور اللہ کے عذاب سے ڈرانے دھمکانے کا ان کی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کی آئے دن کی ان نصیحتوں سے چھٹکارا پانے کے لیے اسے سب مل قتل کریں گے یا آگ میں جلادیں، چنانچہ انہیں آگ میں ڈال دیا گیا لیکن ان کے رب نے اس سے نجات دی اور وہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی بن گئی، اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت، بے پایاں رحمت اور عظیم حکمت کے بڑے بڑے دلائل پائے جاتے ہیں لیکن ان نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو اہل ایمان ہوں گے، غیرمومنین تو مردوں کے مانند ہیں فکر ونظر سے محروم ہیں انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔