سورة القصص - آیت 86

وَمَا كُنتَ تَرْجُو أَن يُلْقَىٰ إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِّلْكَافِرِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

آپ کو تو کبھی خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی جائے گی (١) لیکن یہ آپ کے رب کی مہربانی سے اترا (٢) اب آپ کو ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیے (٣)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤٧) اللہ نے اپنے نبی اور پوری انسانیت پر اپنے احسان عظیم کا ذکر کیا ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنا کر دنیا میں مبعوث کیا بعثت سے پہلے آپ کو معلوم نہیں تھا کہ اللہ آپ کو اپنان بی بنائے گا اور اپنی آخری کتاب آپ پر نازل فرمائے گا یہ اس کی رحمت اور اس کا فضل وکرم ہے کہ اس نے اس نعمت عظمی کے لیے آپ کو چن لیا اس لیے اب آپ اپنے دل میں کافروں کے لیے کوئی جذبہ تعاون نہ رکھیے۔ شوکانی لکتے ہیں کہ اس میں امت محمدیہ کو بھی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ بھی کافروں کے لیے معین ومددگار نہ بنیں کرمانی نے اپنی کتاب، الغرائب، میں اس کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اب آپ ان کے درمیان نہ رہیں یعنی مکہ سے ہجرت کرجائیں اس نعمت عظمی کا یہ بھی تقاضا ہے کہ آپ قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کسی حال میں نہ چھوڑیے اور لوگوں کو اپنے رب کی توحید اور اس کی شریعت پر عمل کرنے کی دعوت دیتے رہیے اور مشرکوں میں نہ شامل ہوجائیے اور اللہ کے ساتھ کسی کو کسی حیثیت سے بھی شریک نہ بنائیے کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔ آیت ٨٨ کے دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی ذات کے سوا ہر چیز کو فنا لاحق ہوجائے گی مجاہد، ثوری، اور امام بخاری نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ ہر وہ عمل جس سے مقصود اللہ کی رضاطلبی نہیں ہوگی اور وہ رائگاں جائے گا اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں ہوگی اور تمام مخلوقات میں اللہ کا ہی حکم نافذ وجاری ہے اس کے فیصلوں کو کوئی نہیں بدل سکتا ہے اور سب کو دوبارہ اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے جہاں حساب و کتاب ہوگا، نیکی اور بدی کا بدلہ چکایا جائے گا یعنی قیامت یقینا آئے گی اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے، وبااللہ التوفیق۔