سورة النمل - آیت 87

وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے (١) مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے (٢) اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہونگے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٤) نفخ صور سے متعلق سورۃ الانعام آیت (٧٣) الکہف آیت (٩٩) طہ آیت (١٠٢) اور المومنون آیت (١٠١) میں لکھا جاچکا ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) تین بار صور پھونکیں گے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ صور دو بار ہی پھونکا جائے گا۔ ماوردی کہتے ہیں کہ اس آیت میں وہ صور مراد ہے جس کے بعد مردے قبروں سے اٹھ کر میدان محشر کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ جب یہ صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں رہنے والے اللہ کے تمام بندے صور کی شدید آواز سے گھبرا جائیں گے اور سب پر دہشت طاری ہوجائے گی، مگر اللہ کے کچھ ایسے نیک بندے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ اس خوف و دہشت سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ کے ان نیک بندوں کی تحدید کے بارے میں علما کے کئی اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد تمام اہل ایمان ہیں جیسا کہ اس کے بعد والی آیت (٨٩) دلالت کرتی ہے کہ مومنین اس دن کی گھبراہٹ سے مامون رہیں گے۔