سورة النمل - آیت 73

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یقیناً آپ کا پروردگار تمام لوگوں پر بڑے ہی فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٧) اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر کتنا بڑا فضل و کرم ہے کہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا ہے اور مومن و کافر سب کو روزی دیتا رہتا ہے، اور بندوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اس کا شکر نہیں ادا کرتے ہیں بلکہ کفر کرتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہوئے عذاب آنے کی جلدی مچاتے ہیں، اس کے باوجود اللہ انہیں توبہ کی مہلت دیئے جاتا ہے۔ آیت (٧٤) میں نبی کریم کے لیے تسلی اور مشرکین کے لیے زبردست دھمکی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اسلام اور اپنے نبی کے خلاف چھپی عداوت اور ان کے ظاہری کفر و شرک کو خوب جانتا ہے اور آسمان و زمین میں کہیں بھی کوئی چیز یا کوئی عمل مخلوقات کی نگاہوں سے چھپا ہے تو وہ لوح محفوظ میں نوشتہ ہے اور اللہ کو اس کا خوب علم ہے، اور جب قیامت آئے گی تو اللہ انہیں ان کے تمام کفر و عناد اور ایک ایک برے عمل کا انہیں بدلہ چکائے گا۔