سورة الشعراء - آیت 198

وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور اگر ہم کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

50۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے انتہائے عناد اور ان کے شدت کفر کو بیان کو بیان کیا ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی رسول پر اتار دیتے، جس کی زبان عربی نہ ہوتی، اور وہ اسے پوری فصاحت کے ساتھ انہیں پڑھ کر سنا دیتا، تو بھی کفار مکہ ایمان نہ لاتے اور اپنے شدت عناد کی وجہ سے اس کی کوئی من مانی توجیہہ کرلیتے۔ آیات 200، 201 میں اللہ نے فرایا کہ جس طرح عجمی رسول کے پرھ کر سنانے کی صورت میں انکار کردیتے، اسی طرح یہ مجرمین محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پڑھ کر سنانے کی صورت میں بھی قرآن کا انکار کرتے رہیں گے، کیونکہ گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردہ پڑگیا ہے، وہ کسی حال میں بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ صرف ایک صورت میں قرٓان کی صداقت کا اعتراف کریں گے کہ جب اللہ کا غضب ان پر نازل ہوگا اور موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اس وقت کف افسوس ملیں گے اور کہیں گے، واقعی قرآن نے سچی بات کہی تھی کہ اگر ہم ایمان نہیں لائیں گے تو اللہ کا عذاب ہم پر نازل ہوگا، بعض مفسرین نے اس عذاب سے قیامت کے دن کا عذاب مراد لیا ہے۔