سورة الشعراء - آیت 160

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

قوم لوط (١) نے بھی نبیوں کو جھٹلایا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

42۔ صالح (علیہ السلام) کے بعد، اب لوط علہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، جن کے لیے وہ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، یہ واقعہ بھی سورۃ الاعراف میں پوری تفصیل کے ساتھ گذر چکا ہے۔ لوط (علیہ السلام) ہاران بن آزر کے بیٹے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی سدوم، عموریہ اور اس علاقے کی دوسری بستیوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا تھا۔ لوط (علیہ السلام) بابل کے رہنے والے تھے، لیکن جب انہیں وہاں کے لیے نبی بنایا گیا، تو وہاں کے رہنے والوں کی طرف ان کی نسبت کردی گئی، لوط (علیہ السلام) ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے، لیکن انہیں ان کی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا، بلکہ روز بروز ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی، اور لواطت جیسے بدترین فعل کے ارتکاب پر ان کا اصرار زیادہ ہوتا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا، آیات 160 سے 164 تک کی تفسیر، ہود اور صالح علیہما السلام کے واقعات میں گذر چکی ہے۔