سورة الشعراء - آیت 103

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یہ ماجرہ یقیناً آپ کے لئے ایک زبردست نشانی ہے (١) ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں (٢)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

29۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا جو واقعہ ابھی بیان کیا گیا ہے، اس میں صاحب بصیرت انسان کے لیے بڑی عبرت کی باتیں ہیں، انہوں نے کس خوش اسلوبی کے ساتھ لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کی، کس قدر تحمل و برباری سے کام لیا، اور مسئلہ توحید باری تعالیٰ کی کیسی عمدہ وضاحت کی، یہ اور ان کے علاوہ بہت سی مفید نصیحتیں اس واقعے سے حاصل ہوتی ہیں، لیکن دعوت ابراہیمی کی ان تمام خوبیوں کے باوجود، ان کی قوم کے بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔ آیت 104 میں اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ کا رب ہر حال میں غالب ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسا چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، اور اس کے بندے اگر اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی عبادت میں مخلص ہوں، تو وہ نہایت مہربان ہے، انہیں بے شمار نعمتوں والی جنت میں داخل کرے گا۔