سورة الشعراء - آیت 69

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

21۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اب ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ قریش ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوتی زندگی کے حالات سن کر نصیحت حاصل کریں، اسلام لے آئیں، اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ مشرکین قریش کو ابراہیم کی داستان توحید سنا دیجئے، جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ تم لوگ کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟ ابراہیم جانتے تھے کہ وہ لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ان کے جواب سے یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ بت اس لائق نہیں ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے، ابراہیم کے باپ آزر اور ان کی قوم کے دیگر افراد نے فخر کے طور پر کہا کہ ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں، اور دن بھر ان کی عبادت میں لگے ہتے ہیں، یعنی رات کے وقت ستاروں کی، اور دن میں انہیں ستارون کے مجسموں کی پرستش کرتے ہیں۔