سورة الفرقان - آیت 63

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر مصلحت کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

32۔ ان آیات کریمہ میں رحمن کے ان نیک بندوں کی نو صفات بیان کی گئی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فضل و کرم سے جنت عطا کرے گا۔ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ متکبر نہیں ہوتے، جب چلتے ہیں تو سکون و وقار کے ساتھ چلتے ہیں، اکڑ کر نہیں چلتے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ ریاکاری میں بیماری کی طرح چلتے ہیں، نبی کریم اس طرح چلتے تھے کہ جیسے اوپر سے نیچے اتر رہے ہوں اور جب نادان لوگ انہیں کوئی غیر مناسب بات کہہ دیتے ہیں تو برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے، بلکہ ان کے شر سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں یا کوئی ایسا جواب دیتے ہیں جس سے شر ٹل جائے۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ راتوں میں اٹھ کر نمازیں پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے حضور گریہ و زاری کرتے ہیں۔ سورۃ الذاریات آیات 17 18 میں ہے کانوا قلیلا من اللیل ما یہجعون، و بالاسحار ھم یستغفرون۔ وہ لوگ راتوں کو بہت کم سوتے تھے، اور صبح کے وقت اللہ سے مغفرت مانگتے تھے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی اللہ کی اطاعت و بندگی میں گذار نے کے باوجود جہنم کے عذاب سے شدید خائف ہوتے ہیں، اور دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ! جہنم کے اس عذاب کو ہم سے ٹال دے جو کبھی ختم نہیں ہوگا، اور جو بدترین ٹھکانا ہوگا۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ مال خرچ کرنے میں اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں، نہ تو فضول خرچی کرتے ہیں، اور نہ ہی بخل کی وجہ سے اپنی ذات کو اور اپنے اہل و عیال کو تنگی میں ڈالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورۃ بنی اسرائیل آیت 29 میں اسی میانہ روی کا حکم دیا ہے۔ ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطہا کل البسط۔ آپ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھئے اور نہ اسے بالکل کھول دیجئے کہ پھر آپ ملامت کیا ہو اور ماندہ بیٹھ جائیے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے، آدمی کے سمجھدار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے اخراجات میں میانہ روی اختیار کرے، مسند احمد۔ نیز فرمایا ہے جو میانہ روی اختیار کرے گا وہ محتاج نہیں ہوگا (مسند احمد) پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہیں جانتے ہیں، اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے ہیں۔ چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ کسی بے گناہ کو قتل نہیں کرتے ہیں (الا یہ کہ کوئی شخص اسلام سے پھر جائے، یا شادی کرنے کے بعد زنا کرے، یا کسی کو بے سبب قتل کردے) اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے، اللہ ت عالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص ان تین گناہوں مٰن (جن کا ذکر پانچویں اور چھٹے نمبر میں آیا ہے) کوئی گناہ کرے گا وہ عذاب پائے گا، قیامت کے دن اس کا عذاب دوگنا کردیا جائے گا، اور ذلت و رسوائی کے ساتھ ہمیشہ اسی عذاب میں رہے گا۔ صحیحین میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بناؤ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے، اور یہ کہ تم اپنی اولاد کو محتاجی کے ڈر سے قتل کردو، اور یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، تو یہ آیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کی تائید میں نازل ہوئی۔ آیت 70 میں اللہ تعالیٰ نے اس ہمیشگی کے عذاب سے ان لوگوں کو مستثنی قرار دیا ہے جو صدق دل سے تائب ہوجائیں گے، اللہ رسول، آخرت اور دین اسلام پر ایمان لائیں گے اور اسلام کے فرائض خمسہ کی پابندی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اس لیے کہ وہ بڑا مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کئی سال تک یضاعف لہ العذاب یوم القیامۃ ویخلد فیہ ہانا، پڑھتے رہے، پھر آیت 70 نازل ہوئی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتنا خوش پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ آیت دلیل ہے کہ قاتل کی توبہ قبول کی جاتی ہے، اور اس آیت اور سورۃ النساء کی آیت 93 ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاءہ جہنم خالدا فیہا، کے درمیان تعارض نہیں ہے۔ اس لیے کہ سورۃ النساء کی آیت اگرچہ مدنی ہے، لیکن مطلق ہے، اس لیے اسے اس آدمی پر محمول کیا جائے گا جو توبہ نہیں کرے گا، اور سورۃ الفرقان کی یہ آیت توبہ کے ساتھ مقید ہے۔ سورۃ النساء میں مذکورہ بالا آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے، میں اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، اسے دیکھ لینا مفید رہے گا۔ آیت 71 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے نزدیک وہی توبہ قابل اعتبار ہوگی جس کے بعد آدمی گناہوں سے بالکل دور ہوجائے، ان پر نادم ہو، اور عمل صالح کے ذریعہ اپنے صدق توبہ کی دلیل فراہم کرے، ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ ایسی مجلس میں شریک نہیں ہوتے ہیں جن میں جھوٹ بولا جاتا ہے اور باطل کی تائید کی جاتی ہے، اور نہ وہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں، ابن عباس (رض) کے نزدیک الزور سے مراد مشرکین کے ایام عید یعنی وہ مشرکین کی عیدوں میں شریک نہیں ہوتے ہیں، اور ابن مسعود (رض) کے نزدیک اس سے مراد گانا ہے یعنی موسیقی اور گانا نہیں سنتے ہیں، اور ایسے لوگ جب کسی بے جا اور لغو قول و عمل کی مجلس سے گذرتے ہیں، تو اپنی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں آٹھویں صفت یہ ہے کہ جب کوئی شخص قرآن کریم کی آیتیں پڑھ کر انہیں نصیحت کرتا ہے تو بہرے اور اندھے نہیں ہوجاتے ہیں (تاکہ نہ نصیحت سنیں اور نہ ان آیتوں کے اثرات کو دیکھ پائیں) بلکہ بہت ہی غور سے سنتے ہیں اور ان کے اثرات ان پر ظاہر ہوتے ہیں ان کی نویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے رب ! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا، یعنی انہیں توفیق دے کہ وہ تیری بندگی کریں اور تیرے دین پر چلیں، تاکہ ان کی نیکی اور صالحیت سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ حسن بصری سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بندہ مسلم اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کو اللہ کا مطیع و فرمانبردار دیکھے، اس سے بڑھ کر اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب اور کیا ہوسکتا ہے، ابن جریج نے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ خویش و اقارب گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کر کے ہمارے لیے ننگ و عار کا سبب نہ بنیں وہ یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بھلائی کے کاموں میں لوگوں کا پیشرو اور سردار بنا، یعنی ہمیں اور ہماری اولاد کو بھلائی کے کاموں کی توفیق دے، اور ہمیں سردار بھی بنا، تاکہ لوگ خیر و صلاح کے کاموں میں ہماری اتباع کریں۔ نیسا پوری، قفال، سیوطی اور دیگر مفسرین نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی امور اور بھلائی کے کاموں کے لیے سرداری طلب کرنا واجب ہے اللہ کے جن نیک بندوں کے اندر یہ صفات پائی جائیں گی، ان سے ان کے رب نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے گا، اس لیے کہ انہوں نے اپنے رب کی بندگی کی راہ میں تمام تکلیفیں گوارہ کیں اور حق پر قائم رہے، یہاں تک کہ جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔ اس جنت میں فرشتے انہیں مبارکبادی دیں گے، اور ہمیشہ کے لیے امن و سلامتی اور سعادت و نیک بختی کا پیغام پہنچائیں گے، اللہ کے وہ نیک بندے اس جنت میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے، اور وہ کیا ہی اچھی جائے رہائش ہوگی کہ جنہیں وہاں رہنا نصیب ہوجائے گا، وہ ہر آفات و بلیات سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائیں گے۔