سورة الفرقان - آیت 25

وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنزِيلًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائیگا (١) اور فرشتے لگا تار اتارے جائیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

11۔ مظاہر قیامت اور منکرین آخرت کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا، ستارے غائب ہوجائیں گے اور پورا نظام عالم درہم برہم ہوجائے گا، اور فرشتے اتر کر تمام مخلوقات کو میدانِ محشر میں گھیر لیں گے، اس دن صرف اللہ کی بادشاہی رہ جائے گی رہ جائے گی، دنیا کے تمام بادشاہ عاجز بندوں کی حیثیت سے میدانِ محشر میں اکٹھا ہوں گے، اور عذاب کی سختی کا تصور کر کے کافروں کا بہت ہی برا حال ہوگا، مارے حسرت و ندامت کے دانتوں سے اپنی انگلیاں کاٹیں گے، اور کہیں گے، اے کاش ! دنیا میں ہم نے رسول کی بات مان لی ہوتی اور ان پر ایمان لے آئے ہوتے، اے کاش ! میں نے فلاں کافر شیطان کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتاجس نے مجھے قرآن پر ایمان لانے سے روکا، اور طرح طرح کے جھوٹے دلائل کے ذریعہ مجھے باور کرایا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ آیت 29 کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شیطان کی تو صفت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں سے جھوٹے وعدے کرتا ہے اور گمراہی کی راہ پر دور تک لے جاتا ہے، پھر بھٹکتا ہوا چھوڑ کر چل دیتا ہے