سورة المؤمنون - آیت 23

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

7۔ دلائل توحید بیان کیے جانے کے بعد نبی کریم (ﷺ)کی تسلی کے لیے اب کچھ انبیاء و رسول کے واقعات بیان کیے جارہے ہیں جن کی بعثت کا مقصد بنی نوع انسان کو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دینی تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے رسول ! ہم نے آپ سے پہلے نوح کو نبی بنا کر بھیجا تھا، تو ان کی قوم نے ان کی تکذیب کی جس طرح آج آپ کی قوم آپ کے ساتھ کر رہی ہے انہوں نے اللہ کے اوامر کی مخالفت کی اور اس کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھہرایا تو اللہ نے ان سے اپنا اور اپنے رسول کا انتقام لیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ بناؤ، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے تم جو اس کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرتے ہو تو کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا ہے کہ اس کا غضب تم پر نازل ہوجائے؟