سورة الحج - آیت 11

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منہ پھیر لیتے ہیں (١) انہوں نے دونوں جہان کا نقصان اٹھا لیا واقع یہ کھلا نقصان ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) صریح اہل کفر کے بعد اس آیت کریمہ میں بعض ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جو صرف دنیاوی مصالح کی خاطر ظاہر کرتے تھے کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں جب تک وہ مصالح حاصل ہوتے رہتے تھے اور کسی دکھ اور تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتے تھے دین اسلام پر باقی رہتے تھے، اور جونہی انہیں کوئی تکلیف لاحق ہوتی تھی ان کا اصلی چہرہ سامنے آجاتا تھا اور کفر کی طرف لوٹ جاتے تھے، اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد کر بیٹھے تھے، اور یہی کسی انسان کا کھلا خسارہ ہے کیونکہ اگر وہ لوگ اپنے ایمان میں مخلص ہوتے تو آخرت میں کامیاب ہوتے اور جو دنیاوی خسارہ ہوا تھا اللہ اسے بھی پورا کردیتا کہ پھر سے مال و اولاد سے نواز دیتا۔ صحیح بخاری میں ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں مروی ہے کہ بعض لوگ مدینہ آتے تھے (اور مسلمان ہونے کا اعلان کردیتے تھے) پھر اگر ان کی بیویاں لڑکے جنتیں اور ان کے مال میں بڑھاوا ہوتا تو کہتے کہ یہ اچھا دین ہے اور اگر ان کے یہاں لڑکے نہیں پیدا ہوتے اور ان کے مال میں اضافہ نہیں ہوتا تو کہتے کہ یہ برا دین ہے۔ آیت (١٢) میں انہی منافقین کے بارے میں مزید کہا جارہا ہے کہ وہ مرتد ہوجانے کے بعد اللہ کے سوا ان معبودوں کو پکارنے لگتے ہیں جنہیں اگر نہ پکاریں تو دنیا میں انہیں وہ معبود کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں، اور اگر انہیں پکاریں اور ان کی عبادت کریں تو وہ آخرت میں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے۔ آیت (١٣) میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جن بتوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ انہیں فائدہ تو کیا پہنچائیں گے بلکہ ان سے نقصان ہی کی زیادہ توقع ہے، اس لیے کہ دنیا میں ان بے روح مجسموں کے سامنے سجدے کر کے اپنے آپ کو ذلیل کرتے ہیں اور آخرت میں شدید عذاب ان کا انتظار کر رہا ہے۔ مذکورہ بالا آیتوں میں کافروں اور منافقوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں وہی ہر دور کے کافروں اور منافقوں میں پائے گئے اور ایسے لوگوں کا ہر زمانے میں یہی حال رہا ہے اور جب تک دنیا قائم رہے گی ان کا یہی حال رہے گا۔